احمد آباد،31/جنوری (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) معروف تاریخ داں رام چندر گوہا نے جمعرات کو پی ایم مودی پر الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے سیاسی فائدہ، اور رابطہ مہم کے لئے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے نام کا غلط استعمال کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ:’کیا وزیر اعظم بننے سے پہلے بھی وہ گاندھی کو ’پسند‘ کرتے تھے۔معروف مؤرخ گوہایہاں بابائے قوم کی برسی پر ایک لیکچر دینے کے لئے آئے تھے۔ انہوں نے شہریت ترمیمی قانون کے لئے بی جے پی قیادت مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر باپو زندہ ہوتے تو وہ اس کی مخالفت میں ڈانڈی مارچ اور ستیہ گرہ کرتے۔ انہوں نے سابرمتی آشرم ٹرسٹ کے ٹرسٹی کو بھی مشورہ دیا کہ وزیر اعظم بننے کے بعد آشرم کو پی ایم مودی سے دوری رکھنی چاہئے تھی۔ گوہانے سی اے اے کیخلاف آواز نہ اٹھانے پر سابرمتی آشرم اور دیگر گاندھی اداروں جیسے گجرات ودیاپیٹھ کی بھی تنقید کی۔مہاتما گاندھی کی سوانح عمری لکھنے والے گوہا نے کہا کہ مئی 2014 کے بعد سے آپ کو وزیر اعظم سے دوری بنا کر رکھنی چاہیے تھی، کیا وزیر اعظم بننے سے پہلے وہ گاندھی کو ’پسند‘کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے انتخابی ریلیوں میں سیاسی فائدہ کیلئے گاندھی جی کے نام کا غلط استعمال کیا ہے۔لیکچر کے بعد سوال جواب کے دور میں گوہانے کہا کہ گاندھی اگر زندہ ہوتے، تو وہ سی اے اے کی مخالفت کرتے،گاندھی کو غلط بتانا وزیر اعظم کی دھوکہ بازی ہے۔